میرا نام صائمہ ہے۔ دو سال قبل گرمیوں کے موسم میں میرا شوہر پشاور گیا تھا کام کے سلسلے میں اورمیں اکیلی تھی اور گرمی خوب زورپر تھی۔۔میں اپنے شوہر کے دوست نوید کے بارے میں سوچ رہی تھی جس نے میرے شوہر کے کہنے پر ایک بار چودا تھا، میری قسمت دیکھیں کہ اتنے میں ہی نوید کا فون آگیا۔ اس نے پوچھا کیا کر رہی ہو۔میں نے کہا کہ گرمی کیساتھ اکیلے مقابلہ کر رہی ہںو۔ اس نے کہا کہ میں آجاؤں؟۔میں نے کہا کہ آجاؤ لیکن تھوڑا لیٹ آنا کوئی دیکھے نہ۔ اس نے کہ کہا ٹھیک ھے۔پھر میں نے شوھرکو فون کیا کی نوید آنا چاہتا ھے۔ اس نے کہا ٹھیک ہے۔ ہمارا یہ فلیٹ 3

ییلو دوستو میرا نام یاسر ہے اؤر میں راولپنڈی سیٹیلائٹ ٹاؤن میں رہتا ہوں۔ میں ان دنوں یونیورسٹی میں پڑھتا تھا میری ایک کلاس فیلو عائشہ میرے ساتھ پڑھتی تھی جو احمدی لڑکی تھی۔عائشہ میری بہت اچھی دوست تھی آور اس کے گھر میرا آنا جانا بھی تھا۔عائشہ کے والد جرمنی ہوتے تھے اور عائشہ کے گھر میں عائشہ کی چھوٹی بہن سدرہ اور عائشہ کی ماں مومنہ ہوتے تھے ۔مہں میں عائشہ کے گھر اکثر جایا کرتا تھا اور عائشہ کی ماں مومنہ کبھی کبھی مجھے بازار سے چیزیں لانے کا بھی کہتی تھی ۔ ایک دن مجھے عائشہ نے کال کی یاسر میری ماں کی طبعیت تھوڑا خراب ہے تو تم انکو ہسپتال ڈاکٹر تک لے جاؤ میں

ہیلو میرا نام نورالعین ہے اور میں یاسر کی بیوی ہوں اور ہم راولپنڈی سیٹلائٹ ٹاؤن میں رہتے ہیں. کچھ ماہ پہلے کی بات ہے کہ مجھے کمرشل مارکیٹ اپنے درزی شوکت کو اپنے کپڑے سلنے دینے جانا تھا لہذا میں سکول سے چھٹی کے فورا بعد ہی کمرشل مارکیٹ پہنچ گئی. شوکت درزی کی دکان پر جب پہنچی تو دکان پر تالا پڑا ہوا تھا اور سخت گرمی تھی دوپہر کے 2 بج رہے تھے میں نے شوکت کے موبائل نمبر پر کال کی اور اسکو بنایا کہ میں یاسر کی بیوی نورالعین بات کر رہی ہوں مجھے تمہیں کپڑے دینے ہیں لہذا دکان پر جلدی آجاؤ.شوکت بولا باجی آپ کپڑے ساتھ والی دکان پر میرا نام بتا کر

ہیلو دوستو میرا نام یاسر ہے اور میں راولپنڈی سیٹلائٹ ٹاؤن میں رہتا ہوں. آج سے کچھ سال پہلے میرے ایک دوست علی رضا نے مجھے اپنی شادی پر کراچی انوائیٹ کیا اور مجھے لازمی اسکی شادی میں شرکت کرنے کا کہا، علی رضا میرا بہت اچھا دوست تھا اور ہم ایک ساتھ لاہور میں پڑھتے رہے تھے. میں نے کراچی کی ٹکٹ کروائی اور بزریعہ ٹرین راولپنڈی سے کراچی پہنچ گیا. میرے دوست علی رضا نے مجھے اسٹیشن سے رسیو کیا اور ہم دونوں اسکے گھر نارتھ ناظم آباد روانہ ہوگئے. علی رضا شعیہ فیملی سے تعلق رکھتا تھا. گھر پہنچنے پر علی رضا نے اپنے تمام رشتے سے میرا تعلق کروایا اور اسپیشل اپنی پھپھو کہکشاں حیدر سے

ہیلو دوستو میرا نام یاسر ہے اور میں راولپنڈی سیٹلائٹ ٹاون میں رہتا ہوں. دوستو جب میں قائداعظم یونیورسٹی میں پڑھتا تھا تو میری ساتھ ایک چکوال بلکسر کہ لڑکی پڑھا کرتی تھی جسکا نام سیدہ دعا کاظمی تھا اور شعیہ مسلک سے تعلق رکھتی تھی. میری دعا سے اچھی دوستی ہو گئی تھی اور ہم سو سال سے ایک ساتھ ہی پڑھ رہے تھے. دعا بنیادی طور پر گاؤں کی رہنے والی لڑکی تھی اور سمپل مگر پرکشش جسم کی مالک تھی. میری دعا سے اچھی دوستی تھی اور ہم دونوں ایک دوسرے سے اکثر بات کیا کرتے تھے. دعا ہاسٹل میں رہا کرتی تھی اور میری سے دعا کی اکثر رات فون پر بات ہوتی تھی. ایک دن

hello dosto. aaj phalhi baar apni bare baji ka motta gora mumma daba raha tha, or wo mera necha layte hue hansti ja rahi thi or saath apni tangon ko kabhi kholti to kabhi edhar udhar karti or bolti. sunny ka bacha pecha hatho.. magar maine be aaj phalhi baar kese ourat ya kese larki ka mummu ko dabaya tha. ufff.. itna motta or kuch naram or kuch hard thay. baji 24 saal ki thi gori chitti or buhat piyare thi. un ka lumba kala baal or gora chitta jisam or lumbe gardan thi. mumma un ka mera chhota patla haatho main pora nahi atta thay. koi 36 size ka thay utha hua. or motti thighs, jab chalti to thighs

ہیلو دوستو میرا نام یاسر ہے اور میں راولپنڈی سیٹلائٹ ٹاؤن میں رہتا ہوں. آج سے 5 سال پہلے مجھے فیس بک پر سیدہ فاطمہ نقوی نامی لڑکی کی فرینڈ ریکوسٹ وصول ہوئی میں نے فرینڈ ریکوسٹ قبول کر لی اور دھیرے دھیرے ہماری بات چیت ہونے لگی فاطمہ کی عمر 21 سال تھی اور وہ کراچی میں ناظم آباد میں رہتی تھی. فیس بک پر بات کرتے ہوئے ہماری کافی اچھی دوستی ہو چکی تھی اور ہم تین ماہ سے آپس میں بات کر رہے تھے. شروع میں ہم ایک دوسرے سے فیس بک میسنجر پر بات کرتے تھے لیکن پھر ہم نے ایک دوسرے سے نمبر ایکسچینج کرلیے اور فون پر روز رات دیر تک باتیں کرنے لگے.میں

ہیلو دوستو میرا نام یاسر ہے اور میں راولپنڈی سیٹلائٹ ٹاؤن میں رہتا ہوں. آج سے کافی سال پہلے کی بات ہے اس وقت میں نویں جماعت میں پڑھتا تھا اور میرے نویں جماعت کے سالانہ امتحانات چل رہے تھے کہ اچانک میرے نانا کی وفات ہو گئی اور میرے سارے گھر والے اسی رات سیالکوٹ روانہ ہوگئے میرے چونکہ امتحانات جاری تھے میں سیالکوٹ نانا کے جنازہ پر نہیں جا سکتا تھا. میرے گھر والے جانے سے پہلے ہمارے ایک دور کے رشتے دار تھے اقبال انکل جو ہمارے گھر کے پاس رہتے تھے انکی بیٹی ارشاد کو ذمہ داری سونپ گئے کہ وہ مجھے سکول کے وقت ناشتہ اور کھانا وغیرہ بنا دیا کرے ارشاد کی عمر 28

ہیلو دوستو میرا نام یاسر ہے اور میں راولپنڈی سیٹلائٹ ٹاؤن میں رہتا ہوں. میرے گھر پاس ایک ایک پٹھان عورت صائمہ اپنے شوہر ظہیر اور دو بچوں کے ساتھ رہتی تھی صائمہ کی عمر 37 سال تھی اور گوری چٹی عورت تھی اور صوابی کی رہنے والی تھی. صائمہ اکثر میرے گھر آتی رہتی تھی اور صائمہ کی میری ماں کے ساتھ دوستی بھی تھی. صائمہ کا شوہر ایک نمبر کا شرابی شخص تھا اور صائمہ کے ساتھ مار پٹائی بھی کرتا تھا. ایک دن صائمہ آنٹی میرے گھر بریانی دینے آئی تو ماں گھر میں نہیں تھی اور میں گھر میں اکیلا تھا اور چھت پر ورزش کر رہا تھا. صائمہ آنٹی نے بریانی دی اور مجھ سے

ہیلو میرا نام نسرین ہے اور میں یاسر کی ماں ہوں اور راولپنڈی سیٹلائٹ ٹاؤن میں رہتی ہوں امید کرتی ہوں آپکو میری چدائی کی سچی کہانیاں پسند آرہی ہوگی اور میری کہانیاں پڑھ کر آپکے لن کھڑے ہو جاتے ہوں گئے. آج سے 7 سال پہلے کی بات ہے کہ میں رات کو سوئی ہوئی تھی اور ہمارے پی ٹی سی ایل فون پر رات 2 بجے بیل بجی میں نے نیند میں فون اٹھایا اور میں نے ہیلو کیا تو دوسری طرف سے کوئی آواز نہیں آئی میں سمجھی شاید یاسر کے ابو کا فون ہے سعودی عرب سے اور میں نے پوچھا کون ہے تو آواز آئی آئس کریم کھاؤ گئ؟ میں نے فون بند کر دیا

ہیلو دوستو کیسے ہیں میرا نام یاسر ہے اور میں راولپنڈی سیٹلائٹ ٹاؤن میں رہتا ہوں. آج پوری دنیا میں ماں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے. آج میں جب گھر میں صبح سو کر اٹھا تو میری بیوی نور العین نے مجھے کہا کہ آج ماں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے اور یاسر تمہیں چاہیے کہ اپنی ماں نسرین کو کوئی تحفہ دو اور آج اسکی جی بھر کر پھدی چودو تاکہ آجکا دن تمہاری ماں کا یادگار اور خوشگوار گزرے. میں اپنی بیوی کی بات سن کر مسکرا پڑا اور اپنے لن میں گرمی محسوس کرنے لگا. خیر میں دن 10 بجے بازار گیا مگر لاک ڈاؤن کی وجہ سے سارے بازار بند تھے تو

ہیلو میرا نام نسرین ہے اور یاسر کی ماں ہوں. میں راولپنڈی سیٹلائٹ ٹاؤن میں رہتی ہوں. کافی سال پہلے کی بات ہے کہ جب یاسر ابھی دسویں جماعت میں پڑھتا تھا اور اس نے نئ نئ میری پھدی چودنا شروع کیا تھا اس وقت میں ہر وقت گرم رہا کرتی تھی. ایک دن یاسر سکول گیا ہوا تھا اور میرے ساس سسر بھی بینک کسی کام سے گئے ہوئے تھے. گرمیوں کے دن تھے اور سخت گرمی پڑ رہی تھی. مجھے دوپہر کا کھانا بنانا تھا اور سبزی لینے جانا تھا. مگر ابھی میں برقعہ پہن ہی رہی تھی تو باہر ایک سبزی والے نے سبزی کی آواز لگائی میں نے سوچا گرمی میں دکان پر جانے کی بجائے

ہیلو دوستو میرا نام یاسر ہے اور میں راولپنڈی سیٹلائٹ ٹاؤن میں رہتا ہوں. آج سے 4 سال پہلے مجھے ایک کاروباری کام سے قازقستان جانا پڑا اور قازقستان میں میری ملاقات ایک پاکستانی شخص کاشف سے ہوئی اور کچھ وقت میں میری کاشف سے دوستی ہو گئی. کاشف شادی شدہ تھا اور اسکے تین بچے تھے کاشف کی بیوی قازقستان کی رہنے والی تھی. میں نے ہوٹل میں کمرہ لیا ہوا تھا اور میرا قازقستان میں تین ماہ کا کام تھا. ایک دن کاشف بولا کہ یاسر میرے گھر میں ایک کمرہ خالی ہے تم وہاں شفٹ ہو جاؤ اور مجھے کرایہ ہوٹل میں جتنا تم ابھی دیتے ہو اسکا آدھا دے دینااور تمہیں کھانے پینے کا بھی مسئلہ

ہیلو دوستو میرا نام یاسر ہے اور میں راولپنڈی سیٹلائیٹ ٹاؤن میں رہتا ہوں. آج میں آپکو کہانی سنانے جا رہا ہوں کہ کیسے میں نے اور میرے دوست عدیل نے اپنی بہنوں کو ایکسچینج کیا اور عدیل نے میری بہن عروج کی چدائی کی اور میں نے عدیل کی بہن ثناء کی چوت چودی. عدیل کی بہن ثناء کی میں کافی بار پھدی چود چکا تھا اور عدیل نے میری ماں نسرین کی چدائی بھی میرے سامنے دو مرتبہ کی تھی جس کی کہانی میں شئیر کر چکا ہوں. دوستو کچھ دن پہلے میرے دوست عدیل نے مجھے کہا کہ وہ میری بہن عروج کی پھدی چودنا چاہتا ہے اور عدیل چاہتا تھا ہم دونوں ملکر اپنی بہنوں ثناء

ہیلو دوستو میرا نام یاسر ہے اور میں راولپنڈی سیٹلائٹ ٹاؤن میں رہتا ہوں. دوستو میرا ایک دوست حارث تھا جو راولپنڈی چوہڑ چوک میں رہتا تھا. میرا اکثر اسکے گھر آنا جانا رہتا تھا حارث کے گھر کے پاس ہی اسکی نانی کا گھر تھا اور کبھی کبھی میں حارث سے ملنے اسکی نانی کے گھر بھی جایا کرتا تھا. حارث کی ایک خالہ تھی جسکا نام قرۃالعین تھا. قرۃالعین کی عمر 23 سال تھی اور وہ ایک سانولی اونچے قد کی لیکن بھرے سیکسی جسم کی مالک تھی.میں نے جب سے قرۃالعین کو دیکھا تھا میرے لن نے انگڑائیاں لینی شروع کر دی تھی. میں نے ایک دن حارث کے موبائل سے کال کرنے کے بہانے اسکی خالہ

hello dosto. ya stroy lalachi biwi or baap bati ki hai. jo gareeb thay magar un ki bati jo buhat he piyare or jawaan thi jis ki shaadi ambeer ghar main ho gae thi. ambeer ghar main hona sa wo apni maa or baap ko acha paissa bhajti. shaadi 1 saal sa zeyda time guzar geya tha. jis per saas pecha par gae ka baita ki dosre shaadi karwana chha rahi thi. bati ese gussa sa wapes ghar aa gae jhider apni maa ka saath apni baatain share karon or kiya karon, bati ko aya 2 din hua thay or maa os ki baatain sun kar buhat zeyda parshaan ho gae thi. magar maa na bati ko samjhaya or bataya

ہیلو دوستو کیا حال ہے میرا نام یاسر ہے اور میں راولپنڈی سیٹلائٹ ٹاؤن میں رہتا ہوں. آج میں آپکو کہانی سنانے جا رہا ہوں کہ کیسے میں نے 2014 عمران خان کے دھرنے میں ایک لاہور سے آئی شادی شدہ عورت کی پھدی چودی. دوستو یہ ان دنوں کی بات ہے جب اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے کارکن پورے پاکستان سے جمع تھے اور ڈی چوک دھرنا دیا ہوا تھا. میں بھی ان دنوں ہر شام جایا کرتا تھا. اس دوران میری ملاقات وہاں لاہور سے آئی ایک عورت سے ہوئی جسکا نام فرحانہ فاروق تھا فرحانہ ایک شادی شدہ عورت تھی اور اسکی عمر 38 سال کے قریب ہوگئی. فرحانہ ایک سانولی اور لمبے قد کی

ہیلو دوستو میرا نام یاسر ہے اور میں راولپنڈی سیٹلائٹ ٹاؤن میں رہتا ہوں. آج میں آپکو اپنی سچی کہانی سنانے جا رہا ہوں کہ کیسے راولپنڈی اڈیالہ جیل میں میری گانڈ ساتھی قیدی نے چودی. آج سے کافی سال پہلے ایک کار ایکسیڈنٹ کیس میں مجھے 2 دن کے لیے جیل جانا پڑ گیا کیونکہ ان دنوں میں وکیلوں کی ہڑتال تھی. جیل میرے لیے نئی تھی اور میں پریشان بھی تھا لیکن مجبوری تھی میری ضمانت دو دن کے بعد ہونی تھی اور دو دن مجھے اڈیالہ جیل میں گزارنے تھے. خیر مجھے اڈیالہ جیل بیرک میں شفٹ کر دیا گیا اور پھر وہاں موجود قیدیوں سے بات ہونے لگی اور سب پوچھنے لگی کہ کیا کیس ہے

ہیلو دوستو میرا نام یاسر ہے اور میں راولپنڈی سیٹلائٹ ٹاؤن میں رہتا ہوں. امید کرتا ہوں آپ کو سیکس کہانیاں پسند آرہی ہوں گی اور آپ ان کہانیوں کو پڑھنے کے بعد مٹھ ضرور مارتے ہوں گئے. کافی سال پہلے کی بات ہے تب میں نویں جماعت میں پڑھتا تھا کہ ہمارے ہمسائے میں اٹک سے ایک آنٹی شبانہ رہتی تھی. شبانہ آنٹی کا بیٹا وقاص میرا دوست تھا اور شبانہ آنٹی کا شوہر سعودی عرب میں کام کرتا تھا. شبانہ آنٹی ایک بھاری جسم والی سانولے رنگ کی لیکن پر کشش عورت تھی جو کسی کے بھی لوڑے میں آگ لگا سکتی تھی. شبانہ آنٹی میری ماں کی بھی سہیلی تھی. ایک بار میرے گھر والوں کو ضروری

ہیلو دوستو میرا نام یاسر ہے اور میں راولپنڈی سیٹلائٹ ٹاؤن میں رہتا ہوں. آج سےایک ماہ پہلے میری شوشل میڈیا ایپ پر ایک لڑکی مقدس سے ملاقات ہوئی مقدس 19 سال کی لڑکی تھی اور احمدی مذہب سے تعلق رکھتی تھی اور سیالکوٹ میں رہتی تھی. میری مقدس سے روزانہ چیٹنگ ہونے لگی مقدس کو پتہ تھا کہ میں شادی شدہ ہوں مگر وہ پھر بھی مجھ سے دوستی کرنا چاہتی تھی. کچھ دن کے بعد میں اور مقدس کھل کر سیکس پر بات کرنے لگے اور مقدس روز مجھ سے پوچھتی آج تم نے کتنی بار اپنی بیوی نورالعین کی پھدی ماری ہے تو میں اسکو بتایا کرتا جس سے اسکو شاید لذت ملتی تھی. مقدس ایک مڈل

ہیلو دوستو میرا نام نسرین ہے اور میں یاسر کی ماں ہوں. میرا بیٹا کے کہنے پر اپنی چوت کی چدائی کی کہانی سنانے جارہی ہوں. میں ایک گھریلو گاؤں کی رہنے والی شریف شادی شدہ عورت تھی لیکن مجھے چڈکر اور لن کا شوقین بنانے والا میرا اپنا سگا بیٹا یاسر ہے جس نے اپنے باپ کی غیر موجودگی میں سوتے میں میری پھدی چود کر مجھے اس راستے پر لایا اور اب تک میری چدائی کا سلسلہ جاری ہے. کافی سال پہلے کی بات ہے مجھے بینک جانا تھا یاسر کے ابو نے سعودی عرب سے پیسے بھیجے تھے وہ لینے جانا تھا. میں بینک پہنچی تو کافی رش تھا تو میں بینک میں میری ایک عورت جسکی

ہیلو دوستو میرا نام نورالعین ہے اور میں راولپنڈی سیٹلائٹ ٹاؤن میں رہتی ہوں اور میں یاسر کی بیوی ہوں. میں اپنے شوہر یاسر کے کہنے پر آپ سے اپنی شادی سے پہلے کی چدائی کی کہانی شئیر کرنے جا رہی ہوں کہ کیسے میں نے اپنے کالج کے پہلے سال اپنے اردو کے پروفیسر بشیر سے پھدی چدوا لی اور پروفیسر بشیر صاحب میری شادی ہونے تک میری پھدی کی چدائی کرتے رہے یہ ان دنوں کی بات ہے جب میری شادی نہیں ہوئی تھی اور میں گوجرانوالہ پیپلز کالونی میں رہتی تھی اور میں نئ نئ کالج میں جانے لگی تھی. اس وقت میری عمر 18 سال تھی اور میں فرسٹ ائیر کی طالبہ تھی. ہمارے ایک اردو

ہیلو سب بہن بھائی کیسے ہیں. میرا نام نورالعین ہے اور میں یاسر کی بیوی ہوں امید کرتی ہوں آپکو میری اور میرے شوہر یاسر کی کہانیاں پسند آرہی ہوں گی. دوستو یہ ہماری زندگی سچی کہانیاں ہیں جو آپ سے شئیر کرتے ہیں. دوستو آج میں جو آپ سے اپنی زندگی کی پہلی چدائی کی کہانی سنانے جا رہی ہوں. جیسے آپ جانتے ہیں میرا نام نورالعین ہے اور میں شادی سے پہلے پاکستان کے شہر گوجرانوالہ پیپلز کالونی میں اپنے اماں ابا اور بھائی ہارون اور بہن سحر کے ساتھ رہتی تھی. یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں میٹرک کی طالبہ تھی میری عمر اس وقت 15 سال تھی. میری ماں ایک سرکاری سکول ٹیچر تھی

ہیلو میرا نام یاسر ہے اور میں راولپنڈی میں رہتا ہوں. پچھلی کہانی میں میں نے آپ کو بتایا کہ کیسے میں نے اپنی سگی بہن عروج کی پھدی کی سیل کھول کر چدائی کی تھی. اب عروج مجھ سے ہر دوسرے دن اپنی پھدی چدوانے لگی تھی. جب میری بیوی نورالعین اپنے میکے جاتی تو میرے لن کا خیال عروج اور میری ماں ہی رکھتے تھے. کچھ ماہ پہلے میری بیوی نورالعین اپنے میلے گوجرانوالہ گی ہوئی تھی اور ان دنوں میں اپنی بہن عروج کی پھدی پر بہت زیادہ گرم تھا مگر عروج کو پیریڈ چل رہے تھے اور مجھے 5 دن انتظار کرنا تھا. لہذا ان پانچ دنوں میں اپنی ماں کی چوت چود رہا تھا مگر

ہیلو دوستو میرا نام یاسر ہے اور میں راولپنڈی میں رہتا ہوں. میں نے پچھلی کہانی میں آپکو بتایا تھا کہ کیسے نیند میں میری نانی نے اپنی چوت مجھ سے چدوا لی اور اسکے بعد چدائی کا نہ رکنے والا سلسلہ جاری ہو گیا. جس وقت میں نے اپنی نانی رضیہ کی چوت چودی تھی اس وقت میں میٹرک میں پڑھتا تھا اور میری نانی رضیہ کی عمر تو 58 سال تھی لیکن اسکا جسم ایسا تھا کہ دیکھ کر لگتا تھا کہ جیسے 47 سے 50 کی ہو گئ اور نانی کے ممے بھی ٹائٹ تھے. اب جب بھی میں گاؤں جاتا تھا تو نانی مجھے اپنے کمرے میں سلاتی تھی اور پھر رات بھر نانی مجھ سے

ہیلو دوستو میرا نام نورالعین ہے اور میں یاسر کی 29 سالہ بیوی ہوں. آج میں اپنے شوہر یاسر کے کہنے پر آپ سب سے اپنا ایک ایسا راز اور سیکس کا تجربہ شئیر کرنے جا رہی ہوں جس کو میں جب بھی سوچتی ہوں تو میری پھدی گیلی ہونے لگتی ہے اور میں سوچتی ہوں کاش ایسا پھر میرے ساتھ ہو جائے. یہ ایک سال پہلے کی بات ہے کہ مجھے اپنی کزن سدرہ کی شادی کا کراچی سے کارڈ آیا ہوا تھا اور سدرہ نے لازمی آنے کا بولا تھا یاسر کام کی وجہ سے میرے ساتھ نہیں جا سکا تو یاسر نے مجھے اکیلی کو جانے کو بولا اور چونکہ میری کزن اصرار کر رہی تھی تو

ہیلو دوستو میرا نام یاسر ہے اور میں راولپنڈی میں رہتا ہوں. آج سے کافی سال پہلے جب میں کالج میں پڑھتا تھا تو ہمارے ہمسائے کے گھر میں انکی ایک رشتے دار لڑکی جسکا نام اسماء تھا مہمان بن کر رہنے آئی اور وہ ہماری ہمسائی آنٹی خدیجہ کے ساتھ کبھی کبھی ہمارے گھر بھی آتی تھی. اسماء قرآن کی حافظہ تھی اور عالمہ کا کورس بھی کر رہی تھی. اسماء کا گاؤں بانڈی منیم تھا جو خان پور ڈیم کے پاس تھا. خدیجہ آنٹی اسماء کی چچی لگتی تھی جس کے گھر اسماء رہنے آئی تھی. اسماء سانولے رنگ کی 19 سالہ مذہبی لڑکی تھی جسکا جسم سیکسی تھا اور بھرا ہوا جسم تھا اور زیادہ تر برقعہ

میرا نام اقراء ہیں آج میں آپ کو ایک سٹوری سنانے جا رہی ہوں دراصل میں طلاق یافتہ ہوں میری عمر 32 سال ہے اور یہ واقعہ مارچ 2021 کا ہے میری ایک بڑی بہن ہے جس کا نام نیلم ہے وہ بیوہ ہے ہم دونوں کا اور کوئی نہیں ہم راولپنڈی ایک ہاسٹل میں رہتی ہیں اور جاب کرتی ہیں اور مجھے نہیں پتہ تھا کے نیلم چداتی ہے ایک دن میں کام سے آئی تو اس وہ ایک آدمی کو خدا حافظ کر رہی تھی میں نے پوچھا کون تھا یہ تو کہنے لگی کہ ساتھ کام کرتا ہے آفس کے کام سے آیا تھا اس دن باجی سے چلنے میں تھوڑی پرابلم ہو رہی تھی تو مجھے

ہیلو دوستو میرا نام یاسر ہے اور میں راولپنڈی میں رہتا ہوں. دوستو آج سے کافی سال پہلے کی بات ہے اس وقت میں کالج میں پڑھتا تھا. مجھے ایک انجان نمبر سے موبائل پر کال موصول ہوئی اور دوسری طرف کوئی لڑکی بول رہی تھی جو اپنے انکل مشتاق سے بات کرنا چاہ رہی تھی مگر میں نے رانگ نمبر کہہ کر فون بند کر دیا.لیکن میں نے نمبر موبائل میں محفوظ کر لیا. کچھ دن کے بعد میں نے اس نمبر پرہیلو کا میسج کیا اور مجھے رات 11 بجے کے قریب رپلائی آیا کہ کون؟ میں نے ویسے ہی بات چلانے کا کہا مجھے عائشہ سے بات کرنی تھی یہ عائشہ کا نمبر ہے؟ تو مجھے دوسری

ہیلو دوستو میرا نام یاسر ہے اور میں راولپنڈی میں رہتا ہوں. پچھلی کہانی میں آپکو بتایا تھا کیسے میری بیوی نورالعین نے کیسے پلان کر کہ اپنی ماں راحت کو گوجرانوالہ سے راولپنڈی بلایا اور پھر اسکو نیند کی گولیاں دے کر اسکی چدائی مجھ سے کروائی. میری ساس راحت گوجرانوالہ جانے کے بعد ہم سے ناراض ہو گئی تھی اور اسکا ذمےدار وہ اپنی بیٹی اور میری بیوی نورالعین کو ٹہراتی تھی. کافی ماہ ہو چکے تھے میری ساس راحت نے ہم سے فون پر بات تک کرنا چھوڑی ہوئی تھی. میری بیوی نورالعین اور میں نے معافی مانگی اور بہت مشکل سے اپنی ساس راحت کو راضی کیا. میری ساس ایک بہت مذہبی اور پردہ دار عورت